لاہور: نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی، کالج کی رجسٹریشن منسوخ
لاہور: پنجاب کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کے خلاف احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
لاہور کے گلبرگ علاقے میں پنجاب کالج کے باہر پیر کے روز ایک فرسٹ ایئر کی طالبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کے خلاف طلبہ نے احتجاج کیا۔ یہ مظاہرہ کالج کے سیکیورٹی گارڈ کے خلاف شروع ہوا، جس کے دوران طلبہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ جھڑپیں کیں۔ جھڑپوں کے نتیجے میں کچھ طلبہ مشتعل ہو کر کالج کی املاک کو نقصان پہنچانے لگے، جبکہ چند طلبہ نے کالج کی کچھ چیزوں میں آگ لگادی۔
پولیس، بشمول انسداد فسادات فورس، طلبہ کو کنٹرول کرنے کے لیے موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 طلبہ اور 4 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب اتوار کے روز پولیس نے ایک سیکیورٹی گارڈ کو مبینہ زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا۔ اس واقعے کے بعد، ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے خصوصی ٹیم تشکیل دی تاکہ ملزم کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے، جو علاقے سے فرار ہو گیا تھا۔
پنجاب حکومت نے اس واقعے کے بعد فوری طور پر پنجاب کالج برائے خواتین کی رجسٹریشن کو معطل کر دیا۔ ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشن (کالجز) نے کالج کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی معطلی کے احکامات جاری کیے۔
سوشل میڈیا اور طلبہ کا ردعمل
مبینہ زیادتی کے واقعے نے سوشل میڈیا پر بھی کافی ہلچل مچائی۔ پولیس نے سیکیورٹی گارڈ کی گرفتاری کے بعد کہا کہ ابھی تک واقعے کی تصدیق نہیں ہوئی، اور نہ ہی متاثرہ طالبہ یا اس کے اہل خانہ نے پولیس سے رابطہ کیا ہے۔
طلبہ نے اس معاملے میں انصاف کے مطالبے کے لیے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور شاہراہ کو بلاک کر دیا۔ اس دوران، کچھ طلبہ کی حالت بھی خراب ہوگئی۔
حکومتی اقدامات
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے طلبہ سے ملاقات کی اور انصاف کی یقین دہانی کرائی۔ اس کے ساتھ ہی، احتجاج کے دوران پولیس کی بھاری نفری کالج کے باہر اور اندر موجود رہی، لیکن ابھی تک کسی قسم کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
آخری صورتحال
پولیس کے مطابق، سیکیورٹی گارڈ نے الزام کی تردید کی ہے اور کالج کے کیمروں سے بھی کوئی شواہد نہیں ملے۔ پولیس نے طلبہ سے درخواست کی ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور تعاون کریں۔
یہ واقعہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والا احتجاج، طلبہ کے حقوق اور حفاظت کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے، جس پر حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
