قومی اسمبلی کا اجلاس بغیر کارروائی کے آج صبح تک ملتوی
قومی اسمبلی کا اجلاس بغیر کسی کارروائی کے آج دن ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق سینیٹ کا اجلاس رات 12:30 تک ملتوی کیا گیا، جو متعدد بار ملتوی ہونے کے بعد رات 11 بجے کے قریب شروع ہوا تھا۔
تقریباً تین گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہونے والے اجلاس کی صدارت ڈپٹی چیئرمین سیدال خان نے کی۔ اجلاس کے آغاز میں سینیٹر عرفان صدیقی نے وقفہ سوالات مؤخر کرنے کی تحریک پیش کی، جو منظور کر لی گئی۔ اس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بینکنگ کمپنیز ترمیمی بل 2024 پیش کیا، جس کی ایوان نے شق وار منظوری دے دی۔
اجلاس کے دوران سینیٹر دنیش کمار نے اس بات کا اظہار کیا کہ آئینی ترامیم پیش کی جائیں، کیونکہ کئی دنوں سے اس پر بات نہیں ہوئی۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے جواب دیا کہ ترامیم پر بعد میں بات ہوگی۔
دوسری جانب، مولانا فضل الرحمان نے آئینی ترمیم کل پیش کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ بلاول بھٹو ان کو راضی کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ذرائع کے مطابق، جے یو آئی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کو صبح تک ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس دوران، ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی مشاورت کے لیے روانہ ہو چکے ہیں، جبکہ بلاول بھٹو مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ان کی رہائش گاہ پر موجود ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو مولانا کو آئینی ترامیم کی حمایت کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش
کر رہے ہیں۔
