اعلیٰ معیار کے تعلیمی نظام کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا، وزیر اعظم
اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے اساتذہ کی تربیت اور قابلیت کا جائزہ لینے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت کی اور اس بات پر زور دیا کہ بھرتیوں میں شفافیت اور میرٹ کو خاص اہمیت دی جائے۔
وزارت تعلیم و فنی تربیت کے امور پر ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے اعلیٰ معیار کی تعلیمی نظام کی ضرورت ہے، اور معیاری تعلیم و فنی تربیت حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسکلز ڈیولپمنٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور ڈیجیٹائزیشن اب ناگزیر ہیں، اور ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کا عزم ہے کہ پاکستان کا کوئی بچہ اسکول سے باہر نہ رہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے حکومت میں آنے کے فوراً بعد تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی، اور یکساں تعلیمی نظام کے لیے قومی نصابی سربراہی کانفرنس کا انعقاد ضروری ہے۔
اجلاس میں وزیر اعظم نے اسلام آباد، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، اور بلوچستان میں دانش اسکولز کی تعمیر کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ کی سہولت کے لیے ڈے کیئر مراکز قائم کرنے اور دارالحکومت کے پارکس اور تفریحی مقامات پر ای لائبریریز بنانے کی بھی تجویز دی۔
شہباز شریف نے کہا کہ پارکس میں ای لائبریریز کے لیے عوام کا داخلہ مفت ہونا چاہیے اور مفت انٹرنیٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔ انہوں نے اسلام آباد کے دیہی علاقوں کی طالبات کے لیے ماہانہ اعزازیہ مقرر کرنے اور اسکولوں میں فنی تربیت کو نصاب کا حصہ بنانے کی حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ جو طالب علم کسی وجہ سے تعلیم چھوڑ چکے ہیں، انہیں مفت فنی تربیت فراہم کی جائے گی، اور اسلام آباد میں اساتذہ کی تربیت کے لیے ایک اعلیٰ معیار کا ادارہ قائم کرنا
ناگزیر ہے۔
